تیری میری اُڑان دیکھے گی
جب زمیں آسمان دیکھے گی
تیری موجِ تباہ کن میری
قوتِ بادبان دیکھے گی
آ نکھ اُٹھا کر زمین بھی اک دن
بارشِ آسمان دیکھے گی
تیری راہِ طلب میں بن کے غبار
خاک اپنی اُڑان دیکھے گی
وحشتِ دل فراق میں تیرے
کمرئہ امتحان دیکھے گی
جب اٹھے گی گھٹا دل و جاں سے
دھوپ پھر سائبان دیکھے گی
